ابنا: سنی اتحاد کونسل پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل، مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کے سرپرست اعلٰی طارق محبوب نے کہا ہے کہ اسلامی تہوار شعائر اسلام ہیں۔ مقدس راتوں میں اللہ اور اس کے رسول (ص) کی خوشنودی حاصل کرنا ذریعہ نجات ہے۔ وہ شب برات کے موقع پر سنی اتحاد کونسل پاکستان اور مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے تعاون سے انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کراچی سٹی کے زیر اہتمام شہر کے مرکزی قبرستانوں میں لگائے گئے استقبالیہ کیمپوں کے دورے کے موقع پر عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سنی اتحاد کونسل پاکستان کے رہنماء اور مرکزی جمعیت علماء پاکستان سندھ کے صدر علامہ فیصل عزیزی، پیر مختار صدیقی، مولانا سید بلال شاہ، اے این آئی سندھ کے سینئر نائب صدر سید مبشر علی قادری، اے این آئی کراچی سٹی کے کنوینئر مسعود عالم، کامران شاہ، صمید عالم، محمد قاسم، شاہ عالم، رفیق عالم، میر احمد، قمر خان، نوید احمد، محمد حسین، جمال مجددی، مولانا قاری محمد دلاور، شیر محمد، حافظ منظور عالم، جان عالم، مبارک عطاری، شیخ محمد نسیم، نثار بھٹی، یاور حیات اور دیگر عہدیداران و کارکنان بھی موجود تھے۔ طارق محبوب نے اس موقع پر زائرین قبور میں اسلامی لٹریچر، پھولوں کی پتیاں اور تبرکات بھی تقسیم کئے۔
طارق محبوب نے کہا کہ اسلامی اور نظریاتی تشخص کو مٹانے کیلئے مغربی استعماری قوتوں کے ایجنٹ معاشرتی اقدار کو عریانی، بے حیائی اور فحاشی کے ذریعے پائمال کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب انسانیت کے خونِ ناحق نے خدا کے قہر و غضب کو دعوت دی ہوئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امتحان اور آزمائش کی اس گھڑی میں اللہ اور اس کے رسول (ص) کے حضور اپنا احتساب اور محاسبہ پیش ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی کی بندگی اور رسول کریم (ص) کی اطاعت و اتباع کا طوق جب تک ہماری گردنوں میں تھا تو قیصر و کسریٰ ہمارے سرنگوں تھے اور جب ہم نے اسلامی حیا، قرآن و سنت کی تعلیمات، عفو و درگرز، رواداری اور صلہ رحمی کی صفات سے منہ موڑا تباہی ہمارا مقدر بن گئی۔ طارق محبوب کا کہنا تھا کہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ویسے ہی حکمران ہم پر مسلط ہیں۔ مسلمان کا خون خانہ کعبہ سے زیادہ عظمت و فضیلت رکھتا ہے اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے اور کسی ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ شعبان المعظم کی مقدس شب ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﴿ص﴾ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے دنیاوی خداﺅں سے رشتہ توڑ دیں۔ امریکہ کے بجائے مدینہ طیبہ کو اپنا مرکز بنالیں تو ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور سکتے ہیں۔ طارق محبوب نے مرکزی قبرستانوں میں مدفون بزرگان اسلام کے مزارات پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
.......
/169